تعلیق[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - خط کی قسموں میں سے ایک جو رقاع و توقیع سے مستخرج ہے اب خفی اور جلی دونوں طرح لکھا جاتا ہے نیز مجازاً۔ "جہاں پناہ کے میر منشی اشرف خاڈ نے خط تعلیق کو معراج کمال تک پہنچایا۔"      ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١٨٨:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی اور حالت میں بطور اسم مستعمل ہے ١٧٨٤ء میں "سحر البیعان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خط کی قسموں میں سے ایک جو رقاع و توقیع سے مستخرج ہے اب خفی اور جلی دونوں طرح لکھا جاتا ہے نیز مجازاً۔ "جہاں پناہ کے میر منشی اشرف خاڈ نے خط تعلیق کو معراج کمال تک پہنچایا۔"      ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١٨٨:١ )

اصل لفظ: علق
جنس: مذکر